جنگل گیر

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - شکار کو گھیرنے والا، جانوروں کو گرفتار کرنے والا۔ "یہ پرند . جانوران جنگل گیر کا کام دیتا ہے . باز اور باشہ جس جس طرح جانور کو گرفتار کرتے ہیں اسی طرح گرفتار کرتا ہے۔"      ( ١٩٢٦ء، خزائن الادویہ، ٣٥٤:٣ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ اسم 'جنگل' کے ساتھ فارسی مصدر 'گرفتن' سے مشتق صیغۂ امر 'گیر' بطور لاحقۂ فاعلی لگنے سے مرکب 'جنگل گیر' بنا۔ اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٩٢٦ء میں "خزائن الادویہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - شکار کو گھیرنے والا، جانوروں کو گرفتار کرنے والا۔ "یہ پرند . جانوران جنگل گیر کا کام دیتا ہے . باز اور باشہ جس جس طرح جانور کو گرفتار کرتے ہیں اسی طرح گرفتار کرتا ہے۔"      ( ١٩٢٦ء، خزائن الادویہ، ٣٥٤:٣ )